نئی دہلی 17 فروری (ایس او نیوز) شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے ) کے خلاف مظاہروں میں حصہ لینے پر اتر پردیش پولیس نے کم از کم 3,000 لوگوں کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا تھا جن میں سے بہت سے لوگ من گھڑت الزامات کے تحت دوسال سے زائد کا عرصہ گذرنے کے باوجود ابھی بھی جیلوں میں بند ہیں۔ یہ معلومات ایسوسی ایشن فور پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) کے ذریعے جاری کی گئی رپورٹ میں دی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی حکومت نے جن لوگوں کو نشانہ بنایا ان میں سے زیادہ تر مسلمان ہیں۔
دارالحکومت دہلی کے پریس کلب آف انڈیا میں منعقدہ پریس میٹ میں اے پی سی آر نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہوئے احتجاجی مظاہروں کے بعد مسلمانوں کے خلاف اُترپردیش میں یوگی حکومت کی جانب سے کئے گئے ظلم و ستم پر مبنی جو رپورٹ پیش کی ہے اُس میں کہا گیا ہے کہ
کہ لگ بھگ 5000 نامزد افراد اور 100,000 سے زیادہ نامعلوم افراد کے خلاف سی اے اے مخالف مظاہروں کے سلسلے میں معاملات درج کئے گئے ہیں جس کے لئے قریب 350 ایف آئی آر درج کی گئیں ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس طرح کے معاملات درج کرنے کے ساتھ ہی اُترپردیش کی ریاستی پولیس کو اس کام کا لائسنس مل گیا ہے کہ وہ ان معاملات کے نام پر کسی بھی شخص کو پھنساسکتی ہے اور بغیر کسی قصور کے انہیں غیر ضروری طور پر ہراساں بھی کرسکتی ہے۔
پریس کانفرنس میں معروف وکلاء، صحافی اور ایکٹوسٹ حضرات موجود تھے جنہوں نے میڈیا سے خطاب کیا -
